دیکھا بھالا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس پر نظر پڑ چکی ہو، جس کو جانچا پرکھا ہو، آزمودہ، تجربہ کیا ہوا، واقف۔ "مگر ایک بات کہوں گی لڑکا ہیرا ہے . گھرانہ دیکھا بھالا۔"      ( ١٩٦٤ء، نورِ مشرق، ٢٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم صفت 'دیکھا' کے ساتھ سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بھالنا' سے صیغہ ماضی مطلق 'بھالا' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٠١ء سے "دیوان جوشش" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس پر نظر پڑ چکی ہو، جس کو جانچا پرکھا ہو، آزمودہ، تجربہ کیا ہوا، واقف۔ "مگر ایک بات کہوں گی لڑکا ہیرا ہے . گھرانہ دیکھا بھالا۔"      ( ١٩٦٤ء، نورِ مشرق، ٢٦ )

جنس: مذکر